the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز
etemaad live tv watch now

ای پیپر

انگلش ویکلی

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

اوپینین پول

کونسی کرکٹ ٹیمیں آئ پی ایل ٢٠٢٦ فائنلس میں پھنچے گی

سن رائزرز حیدرآباد اور پنجاب کنگز
رائل چیلنجرز بنگلورو اور راجستھان رائلز
ممبئی انڈینز اور دہلی کیپٹلز


زمین کا مسلسل بڑھتا ہوا  درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں میں تیزی نے سائنسدانوں کو پریشان کردیا ہے اسی لیے تو  دنیا کےسائنسدان سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ ان سے کیسے نمٹا جائے تاہم ان کا کہنا ہے کہ زمین کو گرم درجہ حرارت سے بچانے والے تجویز کردہ اقدامات  سے اربوں انسان متاثر ہوسکتے ہیں جب کہ سائنسدان اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو گلوبل وارمنگ  پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا۔

زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کو روکنے کے لیے دنیا بھر کے سائنسدان لندن میں جمع ہوئے جس میں 3 جدید ترین تحقیقات پر بحث کی گئی جس  میں یونیورسٹی آف  لیڈز، برسٹل اور آکسفورڈ کے سائنسدان اور ماہرین نے شرکت کی ۔ سب کی توجہ کا مرکز جیو انجینئرنگ کا منصوبہ تھا جس کے تحت مصنوعی بادلوں کا سایہ اور کاربن  ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ جیو انجینئرنگ کا سب سے اہم منصوبہ انتہائی بلندی سے طیاروں کے ذریعے سلفر کے ذرات  کا اسپرے ہے جس سے آتش فشاؤں کی طرز پر ٹھنڈا کرنے والے مادے پیدا کئے جائیں گے یا پھر مصنوعی درخت اگائیں جائیں گے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جو جذب کرلیں گے۔  برسٹل یونیورسٹی کے ڈاکٹر مٹ وٹسن کا کہنا تھا کہ بحث کا مرکزی نکتہ یہ نہیں تھا کہ جیو انجینئرنگ کے منصوبے کیسے کام کریں گے تاہم سب کا اس بات پر اتفاق تھا کہ ان منصوبوں کے اثرات انتہائی تباہ کن اور ان کی پیچیدیوں سے اربوں انسان متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اگرچہ یہ منصوبہ اچھا نہیں لگا تاہم زمین کے درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے کے



لیے اس سے بہتر کوئی منصوبہ نہیں ہوسکتا۔

اجلاس کے دوران کمپیوٹر پر مختلف منصوبوں اور ٹیکنالوجی کے قابل استعمال ہونے سے متعلق کئی ماڈلز پیش کئے گئے، ماہرین کے مطابق سب سے بہتر منصوبہ جیو انجینئرنگ کا ہی تھا جس کے تحت  صحرا، سمندر اور بادل  کے انعکاسی عمل کو مزید مؤثر بنا کر انہیں اس قابل بنایا جائے گا کہ جو شمسی تابکاری کو زمین پر پہنچنے سے روک سکے گا، اجلاس کے دوران ایک دوسرا ماڈل بھی پیش کیا گیا جس کے تحت برف سے ڈھکے آرکٹیک کی فضا میں سلفیٹ کے ذرات  کو انجیکٹ کیا جائے گا جو برف پگھلنے کےعمل کو کم کردے گا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ان سب ماڈلز پر چند ماہ یا چند سالوں میں  عملد درآمد ممکن نہیں اس کے لیے 10 سال سے لے کر 20 سال کا عرصہ درکار ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں پر عمل سے دنیا بھر میں بارشوں کا پیٹرن متاثر ہوگا اور چند خطوں پر تباہ کن اثرات  مرتب ہوں گے، ماہرین کے مطابق ان ماڈلز سے سورج کی شعاعوں کو جسے ’سولر ریڈی ایشن مینجمنٹ‘ کہا جاتا ہے زمین پر پہنچنے سے تو روک دے گا اور درجہ حرارت میں بھی کمی آجائے گی تاہم  یہ انڈین مون سون کو شدید متاثر کرسکتا ہے جس سے کئی علاقے صحراؤں میں تبدیل ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ اسی جیو انجیئرنگ کے ایک ماڈل  ’لوہافیکس‘ کے تحت جنوبی اٹلانٹک میں 6 ٹن آئرن سلوشن کو ڈالا گیا جس سے سمندر کی سطح میں موجود پلانکٹون تیزی سے پھیلے اور انہوں نے سمندر کی تہہ میں بننے  والی کاربن کو جذب کرلیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان منصوبوں کے منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے سائنسدان کیا منصوبہ بندی اور حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
خصوصی میں زیادہ دیکھے گئے
http://st-josephs.in/
https://www.owaisihospital.com/
https://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2026 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.